آبنائے ہرمز کی بندش سے نمٹنے کے لیے کویت کا نیا منصوبہ، سعودی عرب اور امارات کے ساتھ آئل پائپ لائن پر مشاورت
کویت سٹی: آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی برآمدات متاثر ہونے کے بعد کویت نے خام تیل کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے متبادل راستوں پر غور شروع کر دیا ہے۔ کویتی حکومت نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ ایک نئے آئل پائپ لائن منصوبے پر مشاورت کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد سمندری راستوں پر انحصار کم کرنا اور توانائی کی برآمدات کو محفوظ بنانا ہے۔
جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو نیوز کے مطابق کویتی وزیرِ تیل طارق سلیمان الرومی نے بتایا ہے کہ حکومت مختلف متبادل راستوں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ خام تیل کی ترسیل کے لیے ایک ایسا نظام بنایا جا سکے جو ہنگامی حالات میں بھی فعال رہے۔
طارق سلیمان الرومی کے مطابق ایک تجویز یہ ہے کہ کویت سے پائپ لائن سعودی عرب کے راستے بحیرۂ احمر یا سلطنت عمان تک پہنچائی جائے، جہاں سے خام تیل کو عالمی منڈی تک پہنچانے کے لیے متبادل بندرگاہوں کا استعمال کیا جا سکے گا۔ دوسری تجویز میں کویت کو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے منسلک کرنے کا منصوبہ شامل ہے، جو آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہونے کی وجہ سے ایک اہم متبادل راستہ سمجھا جاتا ہے۔
کویتی وزیرِ تیل نے کہا کہ یہ ایک بڑا اور طویل المدتی منصوبہ ہوگا، جس کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ مسلسل مشاورت جاری ہے، منصوبے کے لیے ایسا راستہ منتخب کیا جائے گا جو تکنیکی اعتبار سے مؤثر، محفوظ اور کم لاگت والا ہو۔
انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے باعث اس وقت کویت کی خام تیل کی برآمدات مکمل طور پر رک چکی ہیں، جب تک یہ اہم بحری گزرگاہ بند رہے گی، کویت کے لیے معمول کے مطابق تیل کی ترسیل ممکن نہیں ہوگی، جس سے ملک کے توانائی شعبے کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
کویتی وزیرِ تیل نے مزید بتایا کہ حالیہ حملوں میں متاثر ہونے والے بعض آئل اسٹوریج ٹینکس کی مرمت میں کم از کم 1 سال لگ سکتا ہے، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور برآمدی نظام کو دوبارہ مضبوط بنانا کویت کی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ مستقبل میں ایسے بحرانوں کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
انہوں نے جاپان کو کویت کا اہم اور اسٹریٹجک خریدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوست ممالک کے ساتھ تیل کے اسٹریٹجک ذخائر بڑھانے کے حوالے سے بھی تجاویز زیر غور ہیں، عالمی توانائی مارکیٹ میں استحکام کے لیے محفوظ سپلائی چین کا قیام انتہائی ضروری ہے۔
دوسری جانب طارق سلیمان الرومی نے ایران کی جانب سے کویت اور دیگر خلیجی ممالک پر کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کویت نے ایران کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہیں کی، کویت اپنی اہم تنصیبات، خصوصاً آئل سیکٹر کے تحفظ کے لیے مضبوط فضائی دفاعی نظام رکھتا ہے۔
کویتی وزیرِ تیل نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے بعد کویت نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ قومی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی سطح پر بڑی مقدار میں خام تیل اور توانائی مصنوعات کی ترسیل ہوتی ہے۔ کسی بھی طویل بندش کی صورت میں عالمی توانائی مارکیٹ، تیل کی قیمتوں اور خلیجی ممالک کی برآمدات پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔