میٹا نے 7 لاکھ سے زائد فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس بند کردیے
آسٹریلیا میں کم عمر بچوں کے سماجی ذرائع ابلاغ کے استعمال پر عائد پابندی پر عمل درآمد کرتے ہوئے میٹا نے 7 لاکھ 56 ہزار سے زائد فیس بک اور انسٹاگرام کھاتے معطل کردیے، یہ کارروائی گزشتہ سال دسمبر سے رواں سال جون کے درمیان کی گئی، جبکہ کم عمر صارفین کی نشان دہی کے لیے مصنوعی ذہانت سے بھی مدد لی جارہی ہے۔
ٹیکنالوجی سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق کے میٹا نے دسمبر 2025 سے اِس سال جون 2026 کے درمیان انسٹاگرام کے تقریباً 4 لاکھ 62 ہزار جبکہ فیس بک کے 2 لاکھ 94 ہزار ایسے کھاتوں کو بند کیا گیا جن کے بارے میں کمپنی کو شبہ تھا کہ انہیں 16 سال سے کم عمر افراد استعمال کررہے تھے۔
ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق کم عمر صارفین کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ نظام صارف کے فراہم کردہ کوائف کے ساتھ ساتھ اس کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیتا ہے۔ کسی صارف کی جانب سے سالگرہ کی مبارک باد کے پیغامات، اسکول یا جماعت سے متعلق گفتگو اور دیگر معلومات کا تجزیہ کرکے اس کی ممکنہ عمر کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
آسٹریلیا میں یہ پابندی بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر سماجی ذرائع ابلاغ کے ممکنہ منفی اثرات کے پیش نظر نافذ کی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ کم عمر بچوں کو ان پلیٹ فارموں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے لاحق خطرات سے تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے، تاہم پابندی کے نفاذ کے باوجود بڑی تعداد میں بچے اب بھی مختلف طریقوں سے سماجی ذرائع ابلاغ تک رسائی حاصل کررہے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار اور آزادانہ تحقیقات کے مطابق پابندی کے ابتدائی 3 ماہ کے دوران بھی 16 سال سے کم عمر 80 فیصد سے زائد بچے کسی نہ کسی ذریعے سے سماجی ذرائع ابلاغ استعمال کرتے رہے۔ ان اعداد و شمار نے قانون پر مکمل عمل درآمد اور پابندی کے مؤثر نفاذ سے متعلق سوالات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
دوسری جانب آسٹریلیا کے انٹرنیٹ نگران ادارے کی جانب سے ان بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف کارروائی پر غور کیا جارہا ہے جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے کم عمر بچوں کے سماجی ذرائع ابلاغ کے استعمال کو روکنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے۔ اس معاملے میں کمپنیوں کی جانب سے قانون پر عمل درآمد کی حکمت عملی بھی جانچ کے دائرے میں آچکی ہے۔
آسٹریلوی حکومت نے قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے لیے مالی سزا مزید سخت کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ مجوزہ اقدام کے تحت قواعد پر درست طور پر عمل نہ کرنے والی کمپنیوں پر عائد کیے جانے والے زیادہ سے زیادہ جرمانے کو دوگنا کرکے تقریباً 9 کروڑ 90 لاکھ آسٹریلوی ڈالر تک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس معاملے پر آسٹریلوی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندے بھی اپنا مؤقف پیش کریں گے۔ میٹا کے علاوہ ٹک ٹاک، گوگل اور اسنیپ چیٹ سے وابستہ نمائندوں کو بھی قانون کے نفاذ، کم عمر صارفین کی شناخت اور بچوں کو سماجی ذرائع ابلاغ سے دور رکھنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں وضاحت پیش کرنا ہوگی۔
میٹا نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ وہ بچوں کے لیے محفوظ اور ان کی عمر کے مطابق انٹرنیٹ کی فراہمی کے حکومتی مقصد سے اتفاق کرتی ہے اور آسٹریلیا کے قانون کے تحت عائد اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ کمپنی کی جانب سے کم عمر صارفین کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال بھی اسی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔