آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ، پولنگ جاری؛ تصادم میں پیپلز پارٹی کارکن جاں بحق
مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے جنرل انتخابات 2026 کے دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کے 9 عام انتخابی حلقوں اور پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں پر پولنگ کا عمل جاری ہے۔ بعض حلقوں میں کشیدگی، تصادم اور انتظامی مسائل کے باعث صورتحال متاثر ہوئی جبکہ مظفرآباد ڈویژن میں ووٹرز کی بڑی تعداد کے پیش نظر پولنگ کا وقت 1 گھنٹہ بڑھا دیا گیا ہے۔
انتخابی عمل کے دوران حلقہ ایل اے 31 میں تصادم کا واقعہ پیش آیا، جس میں پیپلز پارٹی کے کارکن مشتاق شاہ جاں بحق ہوگئے جبکہ حلقہ کھاوڑہ میں فائرنگ کے نتیجے میں رکن قومی اسمبلی صلاح الدین جونیجو بازو میں گولی لگنے سے زخمی ہوگئے۔
پیپلز پارٹی کے مطابق رکن قومی اسمبلی صلاح الدین جونیجو کو فوری طور پر مقامی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ صلاح الدین جونیجو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 210 سانگھڑ 2 سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی ہیں۔
دوسری جانب خراب موسم اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث حلقہ ایل اے 28 مظفرآباد 2 لچھراٹ کے متعدد پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ کا عمل ملتوی کر دیا گیا ہے، متاثرہ علاقوں میں راستوں کی صورتحال اور موسمی حالات کے باعث انتخابی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مشکلات پیش آئیں۔
پولنگ کا آغاز صبح 8 بجے ہوا تھا، تاہم آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے مظفرآباد ڈویژن میں ووٹرز کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے پولنگ کے وقت میں 1 گھنٹہ اضافہ کر دیا، جس کے بعد ووٹرز شام 6 بجے تک اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔
دوسرے مرحلے میں مجموعی طور پر 12 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں۔ مظفرآباد ڈویژن کی 9 نشستوں پر 208 امیدوار میدان میں ہیں جبکہ یہاں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 8 لاکھ 9 ہزار 621 ہے۔ کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں پر 143 امیدوار مدمقابل ہیں۔
مظفرآباد ڈویژن کے مختلف اضلاع میں مجموعی طور پر 1483 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جہاں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
انتخابات کے دوران بعض حلقوں میں پولنگ کا عمل تاخیر کا شکار بھی ہوا جبکہ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے الیکشن سیل کی جانب سے مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر کو خطوط بھی ارسال کیے گئے ہیں۔
حلقہ ایل اے 29 تھری مظفرآباد میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے درمیان تصادم کے بعد پولنگ کا عمل روک دیا گیا۔ اسی طرح راولپنڈی ویلی 4 ایل اے 43 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار جاوید بٹ کے مسلح گارڈ کے ساتھ ملت کالونی پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔
الیکشن حکام کے مطابق حلقہ ایل اے 28، ایل اے 29 اور ایل اے 31 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ ان حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کے شاہ غلام قادر، استحکام پاکستان پارٹی کے سردار تنویر الیاس، سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر اور اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر سمیت اہم سیاسی رہنماؤں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
راولپنڈی ڈویژن میں کشمیری مہاجرین کی 3 نشستوں پر 35 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے، جہاں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 27,907 ہے۔ کراچی میں بھی آزاد کشمیر اور جموں کی 2 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی۔
انتخابی سکیورٹی کے لیے 4,000 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ 175 میں سے 31 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا میں حلقہ ایل اے 45 کشمیر ویلی 6 کے لیے 21 اضلاع میں 41 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جہاں 7,655 ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام حلقوں میں پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے 2 گھنٹے بعد نتائج کا اعلان شروع کر دیا جائے گا۔