ایس اینڈ پی نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کردی، آٹھ برس بعد بی کیٹیگری میں واپسی
اسلام آباد: بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈ اینڈ پورز (S&P) گلوبل نے پاکستان کی طویل مدتی انسٹرومنٹس کریڈٹ ریٹنگ منفی بی (B-) سے بڑھا کر بی (B) کردی ہے۔
اس بہتری کے بعد پاکستان تقریباً آٹھ برس بعد دوبارہ بی کیٹیگری میں شامل ہوگیا ہے۔ پاکستان اس سے قبل 31 اکتوبر 2016 سے 3 فروری 2019 تک اسی کیٹیگری میں شامل رہا تھا۔
ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تعاون سے جاری اصلاحات پر عملدرآمد، مالیاتی کارکردگی میں بہتری اور زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافے کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایس اینڈ پی گلوبل کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بہتر کیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لیے اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری حکومت کی مؤثر معاشی پالیسیوں، مالیاتی نظم و ضبط، اصلاحاتی اقدامات اور معیشت کے استحکام کے لیے جاری کوششوں پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے کی جانب سے درجہ بندی میں بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس نظام میں بہتری، مالی خسارے میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے کے اقدامات درست سمت میں جاری ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت نے مشکل مگر ضروری معاشی فیصلے کیے، جن کے مثبت نتائج اب عالمی سطح پر بھی تسلیم کیے جا رہے ہیں، اس پیش رفت سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی ترقی کی رفتار مزید تیز ہوگی۔
وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، اقتصادی ٹیم اور متعلقہ اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت معاشی اصلاحات کا سفر پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ جاری رکھے گی تاکہ پاکستان کو پائیدار اور مضبوط اقتصادی بنیادیں فراہم کی جاسکیں۔