|

سپریم کورٹ نے مالک اور کرایہ دار کے درمیان تنازع پر اہم فیصلہ سنادیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مالک اور کرایہ دار کے تنازع سے متعلق اہم فیصلہ دیتے ہوئے ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ جائیداد کے استعمال کا بنیادی اختیار مالک کے پاس ہوتا ہے اور وہ اپنی ضرورت کا خود بہترین منصف ہے۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کسی بھی جائیداد کے استعمال کے معاملے میں مالک کو کرایہ دار کی خواہش یا رضامندی کا پابند نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق قانون کا مسلمہ اصول یہی ہے کہ اپنی ضرورت کا تعین کرنے کا اختیار خود مالک کو حاصل ہوتا ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ موجودہ مقدمے میں مالک کی جانب سے جمع کرایا گیا بیان حلفی اس کی حقیقی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ جائیداد کے استعمال کے لیے مالک کا مؤقف قابل قبول ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران کرایہ دار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ عمارت میں دیگر فلیٹس بھی خالی موجود ہیں، اس لیے متعلقہ فلیٹ خالی کرانے کی ضرورت نہیں۔ ہائیکورٹ نے اسی نکتے کو بنیاد بنا کر کرایہ دار کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے کرایہ دار کو 6 ماہ کے اندر رہائشی فلیٹ خالی کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مالک کی ذاتی ضرورت کو ثانوی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔

یہ فیصلہ کراچی صدر میں واقع ایک عمارت سے متعلق مقدمے میں سنایا گیا۔ جسٹس عقیل احمد عباسی نے 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں جائیداد کے استعمال سے متعلق قانونی اصولوں کی تفصیلی وضاحت کی گئی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *