دہشتگردوں کے پاس دو ہی راستے ہیں، ہتھیار ڈال دیں یا انجام بھگتیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں، یا تو وہ ہتھیار ڈال دیں یا پھر اپنا انجام بھگتنے کے لیے تیار ہو جائیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں اور اب تک ملک بھر میں 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے ۔ مسلح عناصر کے پاس صرف دو راستے ہیں، یا وہ قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر سکیورٹی فورسز ان کے خلاف بھرپور کارروائی کریں گی۔
انسدادِ دہشت گردی اور قومی سلامتی سے متعلق پریس بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 5 برس کے دوران بلوچستان میں 31 ہزار سے زیادہ جبکہ خیبرپختونخوا میں 7 ہزار 177 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ صرف رواں سال سکیورٹی فورسز نے اوسطاً روزانہ 194 کارروائیاں کیں، جن کے دوران مجموعی طور پر 2 ہزار 84 مصدقہ دہشت گرد مارے گئے اور روزانہ تقریباً 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ رواں سال دہشت گردی کے مختلف واقعات میں مجموعی طور پر 819 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں 303 فوجی جوان اور 322 شہری شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس عرصے میں 28 خودکش حملے بھی ریکارڈ کیے گئے، جبکہ متعدد واقعات میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان حکومت دہشت گرد عناصر کی معاونت کر رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال کے حوالے سے دانستہ طور پر منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ ریاست دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہی ہے۔
حکومت بلوچستان کے عوام سے براہِ راست رابطے پر یقین رکھتی ہے ۔ وہاں پر ترقی کے عمل میں کسی طبقاتی رکاوٹ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہے، ریاست کی مضبوطی قانون کی بالادستی سے وابستہ ہے۔ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک اور ریاست سے وفاداری کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔