جولائی میں تجارتی خسارہ 25 فیصد سے زائد بڑھ گیا
اسلام آباد: جاری مالی سال کے پہلے ماہ جولائی کے دوران پاکستان کے تجارتی خسارے میں سالانہ بنیادوں پر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد ملک کا مجموعی تجارتی خسارہ 3 ارب 94 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔
ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی ماہ جولائی میں تجارتی خسارہ 3 ارب 15 کروڑ ڈالر تھا، جبکہ رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں خسارے میں 25.17 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں ملکی برآمدات سالانہ بنیادوں پر 9.4 فیصد اضافے کے بعد 2.93 ارب ڈالر رہیں۔ برآمدات میں اضافے کے باوجود درآمدات میں ہونے والے نمایاں اضافے کے باعث تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق جولائی کے دوران ملکی درآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور درآمدات کی مجموعی مالیت 6.88 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق جون کے مقابلے میں جولائی کے دوران برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ ماہانہ بنیادوں پر برآمدات 31 فیصد بڑھ کر جون کے 2.24 ارب ڈالر کے مقابلے میں جولائی میں 2.93 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
دوسری جانب ماہانہ بنیادوں پر درآمدات میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ جون میں درآمدات 8.88 ارب ڈالر تھیں، جو جولائی میں تقریباً 0.17 فیصد کمی کے بعد 6.88 ارب ڈالر رہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جون کے مقابلے میں جولائی کے دوران تجارتی خسارے میں ماہانہ بنیادوں پر 15.22 فیصد کمی ہوئی، تاہم سالانہ بنیادوں پر خسارہ اب بھی نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق برآمدات میں اضافے کے باوجود درآمدات کی بلند سطح پاکستان کے بیرونی تجارت کے توازن پر دباؤ کا باعث بن رہی ہے۔ تجارتی خسارے میں کمی کے لیے برآمدات میں مزید اضافہ اور درآمدات کے مؤثر انتظام کو اہم قرار دیا جاتا ہے۔