| |

ٹرمپ کا ایران سے محدود مذاکرات کا دعویٰ، فوجی کارروائی فی الحال مؤخر

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ محدود سطح پر مذاکرات جاری رہنے کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن فی الحال معاملے کو جارحانہ انداز میں آگے بڑھانے کے بجائے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

امریکی ویب سائٹ ایکسوئس کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے بجائے اقتصادی دباؤ بڑھانے کا اشارہ دیا ہے، تاہم ایرانی حکام مسلسل ایسی اطلاعات کی تردید کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹرمپ صرف ایک ہفتہ قبل ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے تھے، تاہم حالیہ گفتگو میں انہوں نے نئی فوجی مہم کی کوئی دھمکی نہیں دی۔

ٹرمپ نے ایران کی معاشی صورتحال کو انتہائی خراب قرار دیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران میں مہنگائی بہت زیادہ ہے اور ملک کے پاس فوج کو تنخواہیں دینے کے لیے بھی مناسب وسائل موجود نہیں۔

دوسری جانب ٹرمپ نے کہا کہ تیل کی قیمت 75 ڈالر فی بیرل سے کچھ زیادہ رہنے سے امریکی صارفین پر جنگ کے معاشی اثرات محدود ہیں۔ انہوں نے ایران کے ساتھ تنازع کو شطرنج کے کھیل سے تشبیہ دی۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری معاملے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکلے گا۔ امریکی حکام کے مطابق صدر کو فی الحال کشیدگی کم رکھنے پر آمادہ کیا گیا ہے۔

دریں اثنا ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ جنگ کے دوران ایرانی حکومت نے بنیادی ڈھانچے کو نقصان اور معاشی بحران سے نمٹنے کا تجربہ حاصل کرلیا ہے، تاہم لڑائی رکنے پر تہران کو اپنی سنگین معاشی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

علاوہ ازیں امریکی عہدیدار نے بتایا کہ فوجی تعاون کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے ہر رات تقریباً 80 لاکھ بیرل تیل خلیج سے باہر بھیجا جا رہا ہے۔ معاہدہ ہونے تک امریکا مزید تیل کی ترسیل کی کوشش جاری رکھے گا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *