اسکولوں میں اساتذہ
| |

اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری کیلئے فیشل اٹینڈنس سسٹم کا آغاز

کراچی: سندھ کے اسکولوں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری یقینی بنانے کے لیے فیشل اٹینڈنس سسٹم متعارف کرا دیا گیا ہے۔ نئے نظام کے ذریعے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی حاضری جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ریکارڈ اور مانیٹر کی جائے گی۔

محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی سندھ کے مطابق ’فیشل ریکگنیشن اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سسٹم‘ کا پائلٹ مرحلہ صوبے کے 6 اضلاع میں شروع کردیا گیا ہے۔

کن اضلاع میں پائلٹ منصوبہ شروع ہوا؟
پائلٹ منصوبے کے لیے سندھ کے ہر ڈویژن سے ایک ضلع منتخب کیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں کراچی ایسٹ، حیدرآباد، نوشہرو فیروز، جیکب آباد، گھوٹکی اور عمرکوٹ شامل ہیں۔

صوبائی وزیر تعلیم سردار علی شاہ کے مطابق پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 49 ہزار 565 تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کی حاضری اس جدید نظام کے ذریعے مانیٹر کی جائے گی۔

انٹرنیٹ نہ ہو تو بھی حاضری درج ہوگی
نئے نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہ ہونے کی صورت میں بھی اسکول عملے کی حاضری ریکارڈ کی جاسکے گی۔ اس طرح دور دراز علاقوں میں موجود اسکول بھی حاضری کے جدید نظام سے منسلک رہ سکیں گے۔

حکام کے مطابق چہرے کی شناخت پر مبنی یہ نظام اسکولوں میں عملے کی موجودگی کے بارے میں بہتر نگرانی میں مدد دے گا اور حاضری کے ریکارڈ کو زیادہ مؤثر انداز میں مرتب کیا جا سکے گا۔

اساتذہ کی دستیابی یقینی بنانے کا ہدف
صوبائی وزیر تعلیم سردار علی شاہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صرف حاضری ریکارڈ کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کو بہتر بنانا بھی ہے۔

ان کے مطابق اس نظام کے ذریعے اسکولوں میں اساتذہ کی دستیابی اور عملے کی حاضری پر نظر رکھی جائے گی، جس سے تعلیمی معیار بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

سندھ حکومت کے اس پائلٹ منصوبے کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد اسے صوبے کے دیگر اضلاع تک توسیع دینے سے متعلق آئندہ اقدامات کیے جانے کی توقع ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *