جماعت اسلامی کا دھرنا 25 کروڑ عوام کی آواز ہے، منعم ظفر خان
کراچی: گورنر ہاؤس کے باہر پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ٹیکس کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاجی دھرنا مسلسل چھٹے روز بھی جاری ہے، جس میں حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سخت غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن آج خصوصی خطاب کریں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دھرنا ملک کے 25 کروڑ عوام کی آواز بن چکا ہے ۔ عوام حکمرانوں کی ظالمانہ ٹیکس پالیسیوں کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکمرانوں کو عوامی دباؤ کے پیش نظر پیٹرولیم لیوی ٹیکس کو فوری طور پر واپس لینا ہوگا ورنہ عوامی احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع ہو جائے گا۔
منعم ظفر خان نے شہر میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے ، مظلوم عوام کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ انہوں نے گلشن سکندر آباد سے اغوا ہونے والی 2 سالہ بچی کے 4 ماہ گزرنے کے باوجود بازیاب نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اور اسے پولیس کی ناکامی قرار دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں اب تک 19 بچے کھلے مین ہولز اور گٹروں میں گر کر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جبکہ اس سال جنوری سے اب تک سگ گزیدگی کے 28 ہزار واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ حکمرانوں نے اگر عوام کی داد رسی نہ کی اور ان کے دکھوں کا مداوا نہ کیا تو عوام خود اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے۔
جماعت اسلامی کے رہنما کا کہنا تھا کہ شہریوں کے قاتلوں کا سراغ نہ ملنا انتظامیہ کی لاپروائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کو بیدار کر رہی ہے اور عوامی حقوق کے حصول تک یہ جدوجہد ہر صورت جاری رہے گی کیونکہ عوام اب مزید استحصال برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔