|

نیا ناظم آباد سے  2 سالہ اذان کے اغوا کا معمہ حل، والد کا دوست مرکزی ملزم نکلا

کراچی کے علاقے نیو ناظم آباد سے اغوا ہونے والے 2 سالہ اذان علی کے اغوا کیس میں پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا، ملزمان نے بچے کے اہل خانہ سے 50 لاکھ روپے تاوان طلب کیا تھا۔

ایس ایس پی ویسٹ طارق مستوئی نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ 2 سالہ اذان علی کے اغوا میں ملوث مرکزی ملزم کو اس کے دیگر ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے، مرکزی ملزم بچے کے والد کا قریبی دوست تھا اور اغوا کی پوری واردات میں براہِ راست ملوث رہا۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم نے لالچ میں آکر اپنے برادر نسبتی اور ایک دوست کے ساتھ مل کر اغوا کی منصوبہ بندی کی اور بعد ازاں بچے کو اغوا کرکے اہل خانہ سے 50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا۔

ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق ملزمان کی گرفتاری جدید تفتیش، تکنیکی شواہد اور انٹیلی جنس معلومات کی مدد سے عمل میں آئی جبکہ واردات میں استعمال ہونے والے مختلف شواہد بھی قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ اس نوعیت کی دیگر وارداتوں میں بھی ملوث رہے ہیں یا نہیں۔

واضح رہے کہ 18 جولائی کو نیو ناظم آباد میں قائم ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے 2 سالہ اذان علی پراسرار طور پر لاپتا ہوگیا تھا۔ پولیس نے واقعے کی نوعیت کو اغوا قرار دیتے ہوئے مقدمہ درج کیا تھا۔ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی تھی، جس میں ایک شخص بچے کو اپنے ساتھ لے جاتا ہوا دکھائی دیا تھا، جس کے بعد پولیس نے ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں شروع کیں۔

بچے کے اغوا کی خبر سامنے آنے کے بعد شہر بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی شہریوں کی جانب سے بچے کی جلد بازیابی کے لیے مہم چلائی گئی۔ پولیس کی حالیہ کارروائی کے بعد نہ صرف ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا بلکہ بچے کو بھی بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا تاکہ اغوا کی منصوبہ بندی، سہولت کاروں اور دیگر ممکنہ ملزمان سے متعلق مزید حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *