سائبر سیکیورٹی معلومات
|

سائبر سیکیورٹی معلومات کی کمی کے باعث 20 فیصد پاکستانی ملازمین آئی ٹی کی غلطی کرتے ہیں: کیسپرسکی سروے

اسلام آباد:کیسپرسکی کے تازہ ترین سروے ”کام کی جگہ پر سائبر سیکیورٹی: ملازمین کا علم اور رویہ“ کے مطابق پاکستان میں سروے میں شامل 18.5 فیصد ملازمین نے تصدیق کی کہ انہوں نے سائبر سیکیورٹی سے متعلق معلومات کی کمی کے باعث آئی ٹی سے متعلق غلطیاں کیں۔
یہ سروے مشرق وسطیٰ، ترکیہ اور افریقہ اور پاکستان کے ملازمین کے درمیان کیا گیا۔ آئی ٹی سے متعلق غلطیوں کی دیگر وجوہات میں 20.5فیصد جلد بازی، 15فیصد غفلت یا عدم توجہی، 16 فیصد یا ذہنی دباؤ، اور 16 فیصد بہت زیادہ نوٹیفکیشنز وجوہات شامل ہیں۔ مسلسل موصول ہونے والے الرٹس، پیغامات اور اسکرین پر موجود غیر ضروری مواد ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جو مہنگی آئی ٹی غلطیوں، سوشل انجینئرنگ حملوں کو نظر انداز کرنے اور حتیٰ کہ سائبر سیکیورٹی کی خلاف ورزیوں کا سبب بن سکتا ہے۔

سروے میں ملازمین کی ڈیجیٹل ورک اسپیس کی عادات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ 37 فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ ان کے ڈیسک ٹاپ پر 10 سے 20 آئیکونز موجود ہوتے ہیں، جبکہ 36.5 فیصد نے اعتراف کیا کہ ان کے ڈیسک ٹاپ پر اس سے بھی زیادہ آئیکنز ہوتے ہیں، جو بعض اوقات اسکرین کے نصف سے لے کر پوری اسکرین تک پھیلے ہوتے ہیں۔ اسی طرح 30 فیصد جواب دہندگان اپنے براؤزر میں کسی بھی وقت 10 سے زیادہ ٹیبز کھلے رکھتے ہیں۔ 58.5 فیصد جواب دہندگان غیر ضروری فائلیں مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ حذف کرتے ہیں، جبکہ باقی افراد ڈیجیٹل صفائی بہت کم کرتے ہیں، یعنی ہر تین ماہ یا حتیٰ کہ سال میں ایک مرتبہ۔

سروے کے مطابق 71 فیصد جواب دہندگان کام کے وقفے کے دوران کھانے یا مشروبات میں مصروف رہتے ہیں، جبکہ 44 فیصد دوستوں اور ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہیں۔ تاہم ذہنی دباؤ کم کرنے اور توجہ بحال کرنے کے لیے اسٹریچنگ اور جسمانی ورزش زیادہ مؤثر طریقہ ہے، جسے صرف 13.5 فیصد ملازمین اپناتے ہیں۔

کیسپرسکی کے میٹا خطے کے سینئر سیکیورٹی کنسلٹنٹ برینڈن مولر نے کہا کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈیجیٹل تھکن ایک حقیقی اور بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ ہے۔ مسلسل نوٹیفکیشنز، بے ترتیب اسکرینز اور معلومات کی بھرمار بتدریج توجہ کم کرتی ہے اور ملازمین کو غلطیوں اور سوشل انجینئرنگ حملوں کے لیے زیادہ حساس بنا دیتی ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل ماحول کو سادہ بنانا محض پیداواری صلاحیت بڑھانے کا مشورہ نہیں بلکہ سائبر سیکیورٹی کا بھی ایک اہم اقدام ہے۔

کیسپرسکی نے اداروں کو ملازمین کی سائبر سکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے مسلسل سائبر سیکیورٹی تربیت کا اہتمام کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ کمپنی کے مطابق کیسپرسکی آٹو میٹڈ سائبر سکیورٹی آگاہی پلیٹ فارم

اس سلسلے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اداروں کو پاس ورڈ پالیسی، سافٹ ویئر انسٹال کرنے کے قواعد اور اے آئی ٹیکنالوجیز کے قابل قبول استعمال سمیت اہم سائبر سیکیورٹی امور پر واضح داخلی رہنما اصول وضع کرنے چاہئیں۔ کیسپرسکی نے کیسپرسکی نیکسٹ جیسی جامع سائبر سیکیورٹی مصنوعات کے استعمال کی بھی سفارش کی ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *