شہباز شریف کی
|

شہباز شریف کی اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سیاسی مسائل کے حل کے لیے بات چیت پر تیار ہے، مذاکرات کے لیے دونوں فریقوں کا آمادہ ہونا ضروری ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، حکومت اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، اب یہ اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ کب مذاکرات کی میز پر آتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے اور حکومت مشکل حالات میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

شہباز شریف نے ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 32 روپے کمی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے وزارت پیٹرولیم کی کاوشوں کو سراہا، خطے کے کئی ممالک میں ریفائنریز اور گیس پلانٹس بند ہیں جبکہ عالمی صورتحال کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ حکومت نے مشکل حالات میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے 128 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے حالات کے باوجود حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

دوسری جانب پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم کیا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بات چیت ہونی چاہیے، مذاکرات ہوں گے تو مسائل کا حل نکلے گا۔ انہوں نے وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس پیشکش کو صرف بیان تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے کہیں گے کہ اس مرتبہ مذاکرات کی پیشکش کو محض پیشکش کی حد تک نہ رکھا جائے بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک کے سیاسی مسائل کا کوئی حل نکالا جاسکے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق بھی سوال کیا گیا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کے پاس عمران خان کی اسپتال منتقلی کے حوالے سے فی الحال کوئی اطلاع نہیں، انہیں امید ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کردیا جائے گا۔

یوں حکومت کی جانب سے ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت اور پی ٹی آئی کی جانب سے اس کا خیرمقدم کیے جانے کے بعد دونوں جانب سے سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں، عملی مذاکرات کب اور کن شرائط پر شروع ہوتے ہیں، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *