|

سستی بجلی کی راہ میں بڑی رکاوٹ، اویس لغاری نے وجہ بتا دی

اسلام آباد: سستی بجلی کی فراہمی سے متعلق وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) فی الحال مخصوص اوقات میں صارفین کو کم نرخوں پر بجلی فراہم کرنے کی اجازت نہیں دے رہا، تاہم حکومت اس معاملے پر مسلسل مذاکرات کر رہی ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ سولر اسٹوریج کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کو سستی بجلی کی سہولت فراہم کی جائے، لیکن اس سلسلے میں آئی ایم ایف کی بعض شرائط حائل ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات پر کام کر رہی ہے تاکہ بجلی کے نظام کو زیادہ مؤثر، پائیدار اور صارف دوست بنایا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا مؤقف اور زمینی حقائق سامنے رکھنے کے بعد آئی ایم ایف کو عوامی ریلیف کے لیے قائل کیا جا سکے گا۔

اویس لغاری نے مستقبل کے منصوبوں سے متعلق بتایا کہ پاکستان کا پہلا جامع قومی توانائی پلان آئندہ سال اپریل میں متعارف کرایا جائے گا، جس میں بجلی کی پیداوار، ترسیل، ذخیرہ اور مؤثر استعمال کے لیے جامع حکمت عملی شامل ہوگی۔

انہوں نے شمسی توانائی کے فروغ کو بھی مستقبل کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید بیٹری اسٹوریج سسٹمز کے ذریعے صارفین دن کے وقت پیدا ہونے والی شمسی توانائی کو محفوظ کر کے رات کے اوقات میں استعمال کر سکیں گے۔ اس سے نہ صرف قومی گرڈ پر دباؤ کم ہوگا بلکہ صارفین کے بجلی کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔

توانائی ماہرین کے مطابق اگر شمسی توانائی کے ذخیرہ کرنے کے منصوبے کامیاب ہوتے ہیں تو مستقبل میں بجلی کے نظام میں استحکام آئے گا اور متبادل توانائی کے ذرائع سے عوام کو زیادہ فائدہ پہنچ سکے گا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *