| | |

دنیا بھر میں دماغی معذوری کا بڑھتا ہوا بوجھ، بروقت تشخیص اور علاج ناگزیر ہوگیا

اسلام آباد: دنیا بھر میں آج عالمی یومِ دماغ منایا جا رہا ہے جس کا بنیادی مقصد انسانی دماغ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ اعصابی بیماریوں کے تدارک کے لیے عوامی آگاہی پیدا کرنا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دن اعصابی صحت کے عالمی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔

ورلڈ فیڈریشن آف نیورولوجی کی جانب سے اس سال کا مرکزی پیغام اعصابی امراض کے علاج تک ہر فرد کی یکساں رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغی صحت میں موجود عدم مساوات کا خاتمہ ایک بہتر اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے انتہائی لازمی امر ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ایک ارب 30 کروڑ افراد کسی نہ کسی قسم کی معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ یہ طبی پیچیدگیاں کسی بھی عمر کے فرد کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔

پاکستان میں معذور افراد کی تعداد تقریباً 70 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جن میں 43 فیصد بچے شامل ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد تعلیمی سہولیات سے محروم ہے جبکہ دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد کو طبی علاج اور بحالی کی بنیادی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

ماہرین کے مطابق دماغی امراض دنیا کی مہنگی ترین اور خطرناک بیماریوں میں شمار ہوتے ہیں جو اموات اور معذوری کی بڑی وجہ ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دیگر بیماریوں کے مقابلے میں دماغی صحت کے شعبے میں تحقیق اور علاج کے لیے وسائل بدستور بہت محدود ہیں۔

دماغی معذوری کے شکار افراد کو معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لیے مناسب بحالی اور معاون ٹیکنالوجی کی فراہمی ناگزیر ہے۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ بروقت تشخیص اور جدید علاج کے ذریعے ان افراد کی زندگیوں میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے جو کہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔

طبی ماہرین نے اس حوالے سے کہا ہے کہ دماغی بیماریوں سے متعلق پائی جانے والی فرسودہ غلط فہمیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ عوامی شعور میں اضافہ اور علاج و تحقیق کو قومی ترجیح دے کر ہی ان چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے تاکہ متاثرہ افراد کو وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع مل سکیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *