کینیڈا نے پاکستانیوں کے لیے امیگریشن کے نئے مواقع کھول دیے
ٹورنٹو: پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے کینیڈا منتقل ہونے اور مستقل رہائش حاصل کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں بین الاقوامی میڈیکل ڈاکٹروں کے لیے مختلف امیگریشن راستے دستیاب ہیں۔ اہل پاکستانی ڈاکٹر اپنی تعلیم، تجربے اور دیگر شرائط پوری کرکے ان پروگرامز سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
کینیڈین امیگریشن نظام کے تحت پاکستانی ڈاکٹر ایکسپریس انٹری، پروونشل نومینی پروگرام اور بعض علاقائی امیگریشن پروگرامز کے ذریعے کینیڈا مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ تاہم امیگریشن کی منظوری کے بعد بھی ڈاکٹر کو کینیڈا میں طبی پریکٹس شروع کرنے کے لیے الگ سے متعلقہ صوبے یا علاقے کی لائسنسنگ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
سال 2026 میں ایکسپریس انٹری کے تحت میڈیکل ڈاکٹروں کے لیے مخصوص کیٹیگری بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ اس راستے سے فائدہ اٹھانے کے لیے امیدوار کا ایکسپریس انٹری کے زیر انتظام تین پروگرامز میں سے کسی ایک کے لیے اہل ہونا ضروری ہے، جبکہ گزشتہ تین سال کے دوران کینیڈا میں ڈاکٹر کی حیثیت سے کم از کم ایک سال کا فل ٹائم تجربہ بھی درکار ہے۔
اسی طرح پروونشل نومینی پروگرام کے تحت طبی شعبے سے وابستہ افراد کی نامزدگی کے لیے وفاقی سطح پر 5 ہزار تک امیگریشن جگہیں مختص کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ کینیڈا کے کسی صوبے یا علاقے میں ڈاکٹر کی ملازمت، کنفرم جاب آفر یا متعلقہ ادارے کا لیٹر آف سپورٹ رکھنے والے امیدوار اس راستے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
وہ پاکستانی ڈاکٹر جن کے پاس کینیڈا میں طبی شعبے کا تجربہ نہیں، وہ بھی اپنی اہلیت کے مطابق پروونشل نومینی پروگرام، ایکسپریس انٹری، اٹلانٹک امیگریشن پروگرام اور بعض دیہی و فرانکوفون کمیونٹی امیگریشن پروگرامز میں مواقع تلاش کرسکتے ہیں۔
درخواست دینے سے قبل امیدواروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ متعلقہ صوبے کی میڈیکل لائسنسنگ شرائط، اپنی ڈگری اور پیشہ ورانہ تجربے کی تصدیق، لازمی امتحانات اور انگریزی یا فرانسیسی زبان سے متعلق تقاضوں کو اچھی طرح سمجھیں۔
اہم بات یہ ہے کہ کینیڈا کی مستقل رہائش یا ورک پرمٹ ملنے سے کسی غیر ملکی ڈاکٹر کو خودکار طور پر طبی پریکٹس کی اجازت نہیں ملتی۔ ڈاکٹر کو اپنی غیر ملکی میڈیکل ڈگری اور دیگر اسناد کا متعلقہ اداروں سے جائزہ کرانے کے ساتھ صوبائی یا علاقائی میڈیکل ریگولیٹری اتھارٹی سے ضروری لائسنس بھی حاصل کرنا ہوگا۔
کینیڈا منتقل ہونے کے خواہشمند پاکستانی ڈاکٹروں کو امیگریشن اور میڈیکل لائسنسنگ کو الگ الگ مراحل کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اس کے علاوہ جاب آفر، لائسنس یا لیٹر آف سپورٹ دلانے کا دعویٰ کرنے والے غیر مجاز ایجنٹس سے محتاط رہنا بھی ضروری ہے اور کسی بھی ادائیگی سے پہلے متعلقہ معلومات کی تصدیق کرنی چاہیے۔