نیا سسٹم اور پرانے کاری گر
سابق گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود کے آبائی قصبے جمال الدین والی ضلع رحیم یار خان میں ایک بڑےجلسے سے خطاب کے دوران سابق وزیر اعظم و چیئرمین سینٹ مخدوم سید یوسف رضا گیلانی نے کپتان اور تحریک انصاف پر پھبتی کستے ہوئے سرائیکی میں کہا تھا کہ ’’عمران خان کہتا تھا کہ میں نیا پاکستان بنائوں گا، نیا پاکستان کیسے بن سکتا تھا کیونکہ اس کے پاس کاری گر تو سب پرانے تھے‘‘ اب کم و بیش ویسی ہی صورتحال فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو درپیش ہے، وہ بھی ملک کو تیزی سے آگے بڑھانے کیلئے ’’نیا سسٹم‘‘ لانے کے لئےکوشاں ہیں لیکن ان کا بھی مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ سیٹ اپ میں ’’کاری گر‘‘سارے پرانے ہیں، اس لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن مسلسل مزاحمت کر رہے ہیں اور نئے سسٹم کی طرف جانے والی گاڑی کچھوے کی رفتار کےساتھ سفرکر رہی ہے، فیلڈ مارشل سمجھتے ہیں کہ دنیا میں کسی کے پاس لامتناہی وقت نہیں ہوتا،منتخب حکومتوں کی بھی ایک مدت ہوتی ہے اور اعلیٰ عہدوں کی بھی ایک مدت ہوتی ہے اور اگر سفر کی رفتار کچھوے والی ہو تو اپنے عہدے یا حکومت کی مدت کے خاتمے تک منزل پر پہنچنا ممکن نہیں رہتا، معروف شاعر منیر نیازی کا اس صورتحال پر بڑا معروف شعر ہے کہ
منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
یہ آسیب کا سایہ دراصل ہمارا بوسیدہ سسٹم ہے جو نمک کی کان بنا ہوا ہے اور جو بھی اس سسٹم کے اندر رہ کر تبدیلی لانا چاہتا ہے وہ سسٹم کے اندر تو تبدیلی نہیں لا سکتا اور تبدیلی خود اس کے اندر آ جاتی ہے اور وہ خود بھی سسٹم کا حصہ بن کر رہ جاتا ہے، اس تاریخی سچائی کے حوالے سے فارسی کی مشہور ضرب المثل ہے کہ
’’ھر کہ در کانِ نمک رفت، نمک شد‘‘
’’جو شخص نمک کی کان میں گیا، وہ خود نمک بن گیا‘‘
شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبال ؒ نے کیا خوب فرمایا تھا کہ
آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے، قوموں کی زندگی میں
ہیں جذب باہمی سے قائم نظام سارے
پوشیدہ راز ہے یہ، تاروں کی زندگی میں
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ملک کی فوڈ سکیورٹی اور چولستان اور بلوچستان میں نئی نہروں کے قیام کےحوالے سے انقلابی انیشیئٹو لیا تو صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ساتھ نہ دیا بلکہ پس پردہ رہ کر شدید مخالفت کی جس کی وجہ سے سال چھ ماہ اس کشمکش کی ’’بھینٹ‘‘چڑھ گئے اور حاصل بھی کچھ نہ ہوا، اس کے بعد ملک میں گراس روٹ لیول پر جمہوری ادارے قائم کرکے مالی و انتظامی اختیارات منتخب مقامی حکومتوں (بلدیاتی اداروں)کو منتقل کرنے کی تجویز اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے پیش کی گئی، لیکن اسے 26 وین آئینی ترمیم سے بھی نکلوا دیا گیا اور پھر 27ویں آئینی ترمیم کا بھی حصہ نہیں بنایا گیا، اب جب اس حوالے سے مجوزہ 28 ویں آئینی ترمیم پیش کرنے کے لئے پیشگی اتفاق رائے کی کوشش پچھلے کئی ماہ سے کی جا رہی ہے تو اس پر بھی اتفاق نہیں ہو رہا، کم و بیش یہی صورتحال ملک میں چھوٹے صوبوں یا چھوٹے انتظامی یونٹس کی تجویز کو درپیش ہے، زچ ہو کر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ذریعے موجودہ سسٹم کو ’’جھنجھوڑا‘‘گیا اور توجہ دلائی گئی کہ سسٹم کی تبدیلی کے بغیر پاکستان کو تیزی سے آگے بڑھانے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی، اس وارننگ کا بھی الٹا اثر ہوا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مسلم لیگ ن کے لیڈرز اور وزراء بھی ہاتھ دھو کر محسن نقوی کے پیچھے پڑ گئے اور ان پر ان کے تیز رفتار سیاسی سفر کے حوالے سے ذاتی حملے شروع کر دیئے گئے، حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انہوں نے جس تناظر میں گفتگو کی تھی اس پر فکری بحث کی جاتی لیکن اس موقعے کو ذاتی کردار کشی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا۔
پاکستان کا اصل المیہ یہ ہے کہ پوری قوم سیاسی و سماجی اور مذہبی و ثقافتی ہر حوالے سے سے پرانی روایات کی اسیر ہو کر رہ گئی ہے، پرانی دشمنیاں، پرانے موقف، پرانے نعرے، الغرض جتنے بھی پرانے اور بوسیدہ ایجنڈے ہیں وہ 25کروڑ عوام کے پائوں کی زنجیر بنے ہوئے ہیں، ٹیکنالوجی، معیشت اور عالمی اسٹریٹجک صورتحال میں انتہائی تیز رفتار تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا جس حیران کن اسپیڈ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اس کے تناظر میں وہی قومیں اور وہی ممالک مقابلے کی دوڑ میں شامل رہ سکیں گے جو مسلسل اپنے سسٹمز کو ’’اپ گریڈ‘‘کرتے رہیں گے، ان حالات میں پرانے اور بوسیدہ ایجنڈوں اور نعروں کے ساتھ چمٹے رہنے کا رویہ ہمیں کہیں کا نہیں رہنے دے گا، ہمارا قومی شاعر ہمیں سو سال پہلے یہ بتا کر گیا تھا کہ صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم کرتی ہے جو ہر لحظہ اپنے عمل کا حساب ،لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے عمل کا حساب کرنے کی جو فکری بحث چھیڑی اس کو’’پازیٹولی‘‘ آگےبڑھا کر ’’دست قضا‘‘میں ’’صورت شمشیر‘‘بننے کی طرف جانے کے راستے پر چلنے کی بجائے ہم ’’بلیم گیم‘‘ کی دلدل میں دھنس کر رہ گئے۔ گویا ہم نے اپنے اجتماعی طرز عمل سے محسن نقوی کے تجزیئے کی تائید کر دی کہ یہ سسٹم آگے بڑھنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، بلکہ زیادہ سادہ اور واضح الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ 77سال پرانا یہ پرانا سسٹم اور اس کے پیدا کیے ہوئے ’’پرانے کاری گر‘‘سب ملک و قوم کو تیزی سے آگے بڑھانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں، اور جب تک یہ رکاوٹیں دور نہیں کی جائیں گی پاکستان کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھانے کے خواب کی تعبیر پانا ناممکن ہے۔